LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی بانی اسپتال منتقلی: حکومت کی نئی نظرثانی اپیل

News Image
حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ایک نئی نظرثانی اپیل دائر کر دی ہے۔ اس قانونی قدم کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے سابقہ فیصلے پر نظرثانی کی استدع کی گئی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کے خلاف ایک بار پھر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی نظرثانی اپیل دائر کر دی ہے۔ اس اہم پیش رفت نے ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے، جہاں فریقین کے مابین قانونی محاذ آرائی جاری ہے۔ حکومتی قانونی ٹیم کی جانب سے دائر کی جانے والی اس نئی درخواست میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جس میں بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، نظرثانی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جیل کے اندر طبی سہولیات پہلے ہی فراہم کی جا رہی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ جیل حکام اور ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں باقاعدگی سے ہو رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے دائر کردہ اس قانونی دستاویز میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے تاکہ جیل کے قواعد و ضوابط اور انتظامی امور کو بہتر طریقے سے برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب، تحریک انصاف کے قانونی مشیروں اور رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو سیاسی انتقام اور تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی سہولیات تک رسائی ہر قیدی کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور اس میں بلاجواز تاخیر سے بانی پی ٹی آئی کی صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے اور حکومتی نظرثانی اپیل پر آنے والے دنوں میں مزید قانونی بحث متوقع ہے، جبکہ سیاسی گلی محلوں میں بھی اس خبر نے گرمی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ عدالت عظمیٰ اس نئی اپیل کا جائزہ لے کر آئندہ ہفتے اس پر سماعت کا آغاز کرے گی، جس کے بعد اس اہم معاملے پر مزید قانونی وضاحت سامنے آئے گی۔