LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی کوہ پیما اسماء مشتاق سپنٹک کیلیے کوہ پیمائی میں انتقال کر گئیں

News Image
پاکستانی خاتون کوہ پیما اسماء مشتاق سپنٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران اچانک طبی ایمرجنسی کا شکار ہو کر انتقال کر گئیں۔ وہ بلند پہاڑوں پر اپنی جرأت اور عزم کے لیے جانی جاتی تھیں اور ان کی ناگہانی موت سے کوہ پیمائی کی دنیا سوگوار ہے۔
پاکستانی کوہ پیماؤں کی دنیا سے ایک انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں نامور خاتون کوہ پیما اسماء مشتاق سپنٹک چوٹی سے واپسی کے دوران اچانک طبی ایمرجنسی کا شکار ہو کر اس فانی دنیا سے کوچ کر گئیں۔ ذرائع کے مطابق وہ اس مہم کے دوران انتہائی جوش و خروش کے ساتھ پہاڑ سر کرنے میں مصروف تھیں اور کامیابی کے بعد بیس کیمپ کی جانب واپس آرہی تھیں کہ انہیں طبی نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ناگہانی صورتحال نے کوہ پیمائی کے حلقوں میں شدید صدمہ طاری کر دیا ہے۔ اسماء مشتاق کا شمار ملک کی پرعزم اور دلیر خواتین کوہ پیماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے بلند و بالا چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے ہمیشہ کٹھن راستوں کا انتخاب کیا۔ سپنٹک چوٹی، جو کہ اپنی خوبصورتی اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے کوہ پیماؤں میں خاصی مقبول ہے، سے اترتے ہوئے انہیں یہ جان لیوا طبی مسئلہ پیش آیا۔ ساتھی کوہ پیماؤں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی اور بروقت انخلا کے لیے اپنی سی کوششیں کیں، مگر حالات اتنے سازگار نہ ہو سکے کہ ان کی زندگی بچائی جا سکتی۔ اس المناک حادثے کے بعد پاکستان بھر سے کھیلوں اور کوہ پیمائی کے شعبے سے وابستہ شخصیات، دوستوں اور مداحوں کی طرف سے گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اسماء مشتاق کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے ملک کا نام روشن کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلند پہاڑوں پر مہم جوئی کرنے والے کھلاڑیوں کی صحت اور ہنگامی حالات میں بروقت امداد کے لیے حفاظتی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادّات سے بچا جا سکے۔