World
یوگنڈا کے اپوزیشن رہنما کِزا بیسجیے ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل
یوگنڈا کے معروف اپوزیشن رہنما کِزا بیسجیے عدالت میں بیہوش ہو جانے کے بعد ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہیں۔ ان کی اہلیہ نے ان کی حالت غیر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یوگنڈا کے نامور اور حکومت مخالف اپوزیشن رہنما کِزا بیسجیے کی طبیعت اچانک شدید خراب ہونے کے بعد انہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت غیبعلمی کی حالت میں ہیں اور ڈاکٹروں کی زیر نگرانی زیر علاج ہیں۔ اس بات کی تصدیق خود ان کی اہلیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی ہے جس سے ان کے حامیوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کِزا بیسجیے کو اس سے قبل سنگین نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے جن میں بغاوت اور غداری کے الزامات بھی شامل ہیں، جن کی وجہ سے وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ حالیہ پیشی کے دوران عدالت کے احاطے میں ہی اچانک چکر کھا کر گر پڑے تھے اور ہوش کھو بیٹھے تھے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔ ان کی جماعت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ کِزا بیسجیے یوگنڈا کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت مانے جاتے ہیں اور طویل عرصے سے موجودہ صدر یووری موسیوینی کی حکومت کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی گرفتاری اور عدالتی مقدمات کے بعد سے ملک میں سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کی موجودہ صحت کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ اور حکومت کی طرف سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ طبی ماہرین ان کی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کر رہے ہیں۔