Entertainment
سندھ ہائیکورٹ میں فلم گھوسٹ سکول کی نمائش میں تاخیر پر سماعت
سندھ ہائیکورٹ نے فلم 'گھوسٹ سکول' کی نمائش میں تاخیر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا اس فلم میں واقعی بھوت موجود ہیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے فلم کی ریلیز میں رکاوٹوں کی وجوہات پر جواب طلب کر لیا ہے۔
کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں فلم 'گھوسٹ سکول' کی نمائش میں غیر ضروری تاخیر کے معاملے پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے نہایت دلچسپ اور اہم ریمارکس دیے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ آخر اس فلم کی ریلیز کے راستے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں اور کیا اس فلم میں واقعی کوئی بھوت موجود ہیں جن کی وجہ سے اسے روکا گیا ہے۔ عدالتی استفسار نے کمرہ عدالت میں موجود افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی اور یہ معاملہ میڈیا کی زینت بھی بن گیا۔
فلم سازوں اور پروڈکشن ٹیم کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تمام تر قانونی اور سینسر بورڈ کی تقاضے پورے کرنے کے باوجود فلم کو نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف پروڈیوسرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ فنکاروں کی محنت بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ درخواست گزار کے مطابق فلم کی ریلیز میں تاخیر کے پیچھے کوئی معقول وجہ نہیں بتائی جا رہی بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے اس عمل کو التواء کا شکار کیا جا رہا ہے۔
عدالت نے معاملے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے متعلقہ اداروں اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اس تاخیر کی واضح وجوہات عدالت کے سامنے پیش کریں۔ سندھ ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ثقافتی سرگرمیوں اور فلمی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کی رکاوٹیں غیر مناسب ہیں اور قانون کے مطابق تمام معاملات کو شفاف طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
فلم 'گھوسٹ سکول' سے وابستہ شائقین اور فلمی حلقوں نے عدالت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس عدالتی کارروائی کے بعد فلم کی سنیما گھروں میں ریلیز کی راہ ہموار ہوگی۔ پاکستانی فلم انڈسٹری پہلے ہی بحران کے دور سے گزر رہی ہے ایسے میں اس قسم کے عدالتی فیصلے فلمی صنعت کے احیاء کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔