Business
بھارت کو جدید ٹیکنالوجی کے فقدان سے اربوں ڈالر کا معاشی نقصان
ایک نئی رپورٹ کے مطابق اگر بھارت نے جدید مینوفیکچرنگ اور فرنٹیئر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار نہ لایا تو اسے معیشت میں شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ملک کی صنعتی ترقی اور مجموعی گھریلو پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر بھارت نے وقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ کو نہ اپنایا تو اسے مستقبل میں بہت بڑے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کو 2035 تک مینوفیکچرنگ جی ڈی پی میں 270 ارب ڈالر جبکہ 2047 تک ایک ٹریلین ڈالر تک کا تخمینہ شدہ نقصان ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوگی جب صنعتی شعبے میں جدید ایجادات اور ڈیجیٹل حل کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور نہ کی گئیں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگر ملک نے جدید ٹیکنالوجی کے پوٹینشل کو مکمل طور پر ان لاک نہ کیا تو مجموعی طور پر 2047 تک مینوفیکچرنگ جی ڈی پی کا مجموعی خسارہ 5.1 ٹریلین ڈالر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ عالمی معاشی منظر نامے میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ روایتی طریقوں کو چھوڑ کر سائنسی بنیادوں پر استوار صنعتی پالیسیاں بنائی جائیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بھارت کے صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر فرنٹیئر ٹیکنالوجیز کا انضمام ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے دونوں کو مل کر تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی تاکہ طویل مدت میں پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی بحران سے بچا جا سکے۔