Technology
مصنوعی ذہانت اور مارکیٹنگ: سام ایلن کا انٹرویو اور اہم نکات
مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی مارکیٹنگ کے شعبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے جس سے برانڈز اور صارفین کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں کا انحصار مکمل طور پر جدید ڈیٹا اور خودکار نظاموں پر ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور اب اس کا اثر مارکیٹنگ کے شعبے پر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں 'Iterable' کے سی ای او سام ایلن نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح مصنوعی ذہانت نے برانڈز کے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق، روایتی مارکیٹنگ کے طریقے اب پرانے ہو چکے ہیں اور موجودہ دور میں کامیابی کے لیے ڈیٹا اور اے آئی ٹولز کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔
سام ایلن کا مزید کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کمپنیاں اپنے صارفین کی ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت مارکیٹرز انتہائی کم وقت میں ذاتی نوعیت کے پیغامات (personalized campaigns) تیار کر سکتے ہیں جو کہ براہ راست ہدف شدہ صارفین کو راغب کرتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف کاروباری کارکردگی میں بہتری آتی ہے بلکہ صارفین کا برانڈ پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی مارکیٹنگ کے اس نئے دور میں برانڈز کو بھی اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ جو کمپنیاں وقت کے ساتھ خود کو ڈھال لیں گی اور جدید اے آئی ٹولز کو اپنائیں گی، وہ مارکیٹ میں طویل عرصے تک مسابقت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار مارکیٹنگ کے شعبے میں مزید وسیع ہو جائے گا، جس سے نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔