LIVE
Loading Breaking News...

بگ ٹیک کے اے آئی گیٹ کیپرز پر ریگولیٹری جانچ پڑتال کا خطرہ

News Image
بگ ٹیک کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت کے گیٹ کیپرز کو قانونی اور ریگولیٹری جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے فیصلوں کے پیچھے ذمہ داری کا تعین کرنا انتہائی ضروری ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار پر قانونی ماہرین کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ قانونی ڈھانچہ اس بنیادی مفروضے پر قائم ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو جائے، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسا شخص یا کمپنی موجود ہوتی ہے جو اس کے اہم اور نتیجہ خیز فیصلوں کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ تاہم، ایجنٹک اے آئی اور خودکار سسٹمز کے دور میں اس ذمہ داری کا تعین کرنا انتہائی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ٹیک ریگ ٹاکس کے دوران نامور ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح بگ ٹیک کے ادارے مارکیٹ میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اے آئی گیٹ کیپرز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں نہ صرف خود ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہیں بلکہ اس تک رسائی کو بھی کنٹرول کرتی ہیں، جس سے منصفانہ مقابلے کی فضا متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان خدشات کے پیش نظر مختلف ممالک کے ریگولیٹری ادارے اب اس شعبے میں مزید سخت قوانین لانے پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بگ ٹیک کے اے آئی گیٹ کیپرز پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو یہ معیشت اور صارفین کے حقوق دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اے آئی سسٹمز کے فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی غلطی یا نقصان کی صورت میں ذمہ دار کا تعین آسانی سے کیا جا سکے۔ اس حوالے سے آنے والے دنوں میں مزید سخت پالیسیاں متوقع ہیں۔