World
نیپال میں غیر ملکی امداد کو بجٹ کا حصہ بنانے کی ہدایت
نیپال کی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو غیر ملکی امداد قومی نظام کے ذریعے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کا مقصد اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا اور فنڈز کا درست استعمال ہے۔
کاٹھمنڈو: نمائندوں کے ایوان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے حکومت کو باضابطہ طور پر ہدایت کی ہے کہ نیپال کو ملنے والی تمام غیر ملکی امداد کو جہاں تک ممکن ہو قومی نظام اور سرکاری فنڈز کے تحت متحرک کیا جائے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے ملکی مالیاتی نظام میں شفافیت آئے گی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ملنے والے وسائل کا بہتر اور مؤثر استعمال ممکن ہو سکے گا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ماضی میں غیر ملکی امداد کا ایک بڑا حصہ براہ راست یا متوازی نظام کے ذریعے خرچ ہوتا رہا ہے جس سے فنڈز کے درست تخمینے اور آڈٹ میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ اب پارلیمانی کمیٹی چاہتی ہے کہ تمام بین الاقوامی شراکت داروں اور ڈونر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ امدادی رقوم براہ راست ملکی بجٹ اور سرکاری خزانے کے ذریعے متعلقہ شعبوں میں پہنچائی جائیں۔
اس فیصلے کے بعد متعلقہ وزارتوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ملکی گرانٹس اور قرضوں کے انتظام کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کریں۔ ماہرین اقتصادیات نے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی معیشت پر بہتر کنٹرول حاصل ہوگا اور مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومت کی جانب سے اس ہدایت پر عمل درآمد کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔