LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کا نظام حکومت پر کڑا تنقید، انتظامی اکائیاں بنانے کی تجویز

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا موجودہ گورننس کا نظام مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے ملکی مسائل کے حل کے لیے نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی اور گورننس کا نظام اب مزید کارآمد نہیں رہا اور یہ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی طریقوں اور موجودہ ڈھانچے کے ساتھ ملک کو درپیش شدید معاشی اور انتظامی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت فوری اصلاحات اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے زور دیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ملکی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہمیں زمینی حقائق کا اعتراف کرنا ہوگا۔ وزیر داخلہ نے تجویز پیش کی کہ ملک کے موجودہ انتظامی مسائل سے نمٹنے اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لیے نئی انتظامی اکائیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹے اور فعال انتظامی یونٹس کے قیام سے عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ممکن ہو سکے گی۔ حکومتی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے محسن نقوی کے اس بیان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک میں طویل عرصے سے انتظامی اصلاحات اور صوبوں یا اضلاع کی تقسیم کے حوالے سے مباحث جاری ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو متعدد سنگین معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو ریاستی امور کو چلانا مزید دشوار ہو جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر درست فیصلے نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ حکومت آنے والے دنوں میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ملک کو درپیش انتظامی بحران سے نکالا جا سکے اور ایک موثر نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔