LIVE
Loading Breaking News...

خواتین اور مردوں کے مدافعتی نظام میں فرق پر نئی سائنسی تحقیق

News Image
سائنسدانوں کی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ خواتین اور مردوں کے مدافعتی نظام میں واضح اور بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ تحقیق مستقبل میں مختلف بیماریوں کے علاج اور ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
سائنسی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے دوران محققین نے خواتین اور مردوں کے مدافعتی نظام کے درمیان پائے جانے والے اہم فرق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس تازہ تحقیق کے مطابق، دونوں اصناف کے جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت اور اس کا طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ فرق حیاتیاتی اور جینیاتی عوامل کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے، جو روزمرہ کی زندگی میں مختلف بیماریوں کے خلاف ردعمل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماہرین نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ خواتین کا مدافعتی نظام بعض بیماریوں کے خلاف زیادہ تیزی سے فعال ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بعض انفیکشنز کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر پاتی ہیں، تاہم اس کی وجہ سے وہ خود مدافعت کی بیماریوں کا بھی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ دوسری جانب، مردوں کا مدافعتی نظام مختلف انداز میں کام کرتا ہے اور اس کے اپنے حیاتیاتی تقاضے ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طب اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹروں اور محققین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ادویات کی تیاری اور مختلف امراض کے علاج کے دوران مردوں اور خواتین کے مدافعتی نظام کے اس فرق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس سے نہ صرف علاج کے طریقوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا بلکہ ہر صنف کے لیے مخصوص اور بہتر ادویات بھی تیار کی جا سکیں گی، جو طبی میدان میں ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔