LIVE
Loading Breaking News...

پٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں اضافہ

News Image
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں بھی فی لیٹر ایک روپیہ چونیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے آئل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے دیرینہ مطالبات پورے ہو گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل کے ڈیلرز مارجن میں بھی ایک روپیہ چونیس پیسے فی لیٹر اضافے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے بعد ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل فروخت کرنے والے ڈیلرز کا مارجن بڑھ گیا ہے، جس کا طویل عرصے سے مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز ایسوسی ایشنز کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جا رہا تھا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور افراط زر کی وجہ سے موجودہ مارجن ناکافی ہو چکا ہے اور اسے فوری طور پر معقول سطح پر لایا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس اضافے سے ڈیلرز کو اپنے کاروباری اخراجات، بشمول پمپس کے آپریشنل اخراجات اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں کچھ ریلیف ملے گا۔ مہنگائی کے اس دور میں پمپس چلانا پہلے ہی ایک مشکل مرحلہ بن چکا تھا کیونکہ بجلی کے بلوں، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ اس تناظر میں ڈیلرز مارجن میں اضافے کو کاروباری طبقے کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، اگرچہ عام صارفین پر اس کا اضافی بوجھ پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم سیکورٹیز اور قیمتوں کے اس نظام میں مارجن بڑھانے سے جہاں ایک طرف ڈیلرز کے مسائل حل ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کا براہ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی براہ راست ٹرانسپورٹ، سبزیوں، اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل غور و خوض کے بعد اس فیصلے کو حتمی شکل دی گئی تاکہ تیل کی فراہمی کا نظام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری رہ سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس نئے مارجن کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں پٹرول پمپ مالکان اپنے کاروبار کو بہتر طریقے سے چلا سکیں گے اور سپلائی چین میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوگا۔ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان ہونے والے اس فیصلے کو آئندہ بھی اقتصادی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے گا تاکہ افراط زر کے اثرات کو متوازن رکھا جا سکے۔