LIVE
Loading Breaking News...

چیٹ جی پی ٹی کا استعمال اور ڈیٹا پرائیویسی کے خطرات

News Image
چیٹ جی پی ٹی اور جدید مصنوعی ذہانت کے سسٹمز صارفین کے ذاتی ڈیٹا اور پیغامات کو محفوظ بنانے کے بجائے مخبری کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ تاریخی عدالتی مقدمات کی مثال دیتے ہوئے ڈیجیٹل پرائیویسی پر نئے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
سنہ 1998 میں حکومتی وکیل اسٹیفن ہائک نے مائیکروسافٹ کے خلاف انٹی ٹرسٹ کیس میں ایک دلچسپ نکتہ اٹھایا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بل گیٹس کو عدالت میں گواہی کے لیے کیوں نہیں بلا رہے، تو ہائک کا جواب تھا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کے ای میلز موجود ہیں۔ یہ تاریخی مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ڈیجیٹل مواصلات اور تحریری پیغامات کس طرح قانونی اور کارپوریٹ دنیا میں ایک مضبوط ثبوت بن جاتے ہیں۔ جدید دور میں یہی صورتحال مصنوعی ذہانت کے چیات بوٹس اور خصوصاً چیٹ جی پی ٹی کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جب صارفین مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز پر گفتگو کرتے ہیں یا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، تو وہ اکثر یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ یہ تمام ڈیٹا محفوظ کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی سسٹمز ایک لحاظ سے ڈیجیٹل مخبر کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو ہر بات کو یاد رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور ریگولیٹرز اس ڈیٹا کو کس طرح استعمال کرتے ہیں، اس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ بہت سے صارفین اس بات سے ناواقف ہیں کہ ان کے ذاتی سوالات، کاروباری منصوبے اور حساس معلومات اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے، اور ماہرین زور دے رہے ہیں کہ صارفین کو مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز استعمال کرتے وقت اپنی رازداری کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔ قانون ساز بھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اے آئی کمپنیوں کے لیے ڈیٹا کے تحفظ اور اس کے استعمال سے متعلق مزید سخت قوانین بنائے جائیں تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔