LIVE
Loading Breaking News...

پینٹاگون اور فوجی دھماکوں کے صحت عامہ پر اثرات کی رپورٹ

News Image
امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹ ایبلٹی آفس کی نئی تحقیق میں پینٹاگون پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوجی تربیت اور جنگی مشقوں کے دوران دھماکوں کی زد میں آنے والے فوجیوں کی صحت پر پڑنے والے اثرات کی بہتر نگرانی کریں۔ اس حوالے سے محکمۂ دفاع کو درکار وسائل اور تحقیقی ڈھانچے کا فوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
امریکہ کے محکمۂ دفاع یعنی پینٹاگون کو ایک نئی رپورٹ میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوجی اہلکاروں پر دھماکوں کے اثرات سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کی نگرانی کے لیے اپنے وسائل اور حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لے۔ امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹ ایبلٹی آفس (GAO) کی جانب سے جاری کردہ اس مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی تربیت اور جنگی کارروائیوں کے دوران دھماکوں کی زد میں آنے والے جوانوں کی طبی دیکھ بھال اور طویل مدتی صحت کے لیے مزید موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فوجی جوانوں کو میدان جنگ یا تربیتی مشقوں کے دوران اکثر بھاری دھماکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے دماغ اور جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جی اے او نے نشاندہی کی ہے کہ پینٹاگون کے پاس اس شعبے میں جاری تحقیق اور مانیٹرنگ کے لیے جو وسائل موجود ہیں، وہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ محکمۂ دفاع فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جن سے دھماکوں سے متاثرہ اہلکاروں کی بروقت شناخت اور علاج ممکن ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بار بار سامنا کرنے سے فوجیوں میں ذہنی تناؤ، اعصابی کمزوری اور دیگر پیچیدہ طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں جن کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی فوجی قیادت اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنی طبی اور تحقیقی پالیسیوں میں خاطر خواہ بہتری لائے گی تاکہ ملک کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔