Business
بی ایم او انڈیکس، لاطینو والدین اور بچوں کی پرورش کے اخراجات
بی ایم او رئیل فنانشل پروگریس انڈیکس کے مطابق امریکہ میں اسی فیصد سے زائد لاطینو والدین کا ماننا ہے کہ بچوں کی پرورش کے اخراجات قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بہت سے خاندان مالی دباؤ کے باوجود توسیع شدہ خاندان کی مالی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ میں مالیاتی امور پر نظر رکھنے والے ادارے بی ایم او (BMO) رئیل فنانشل پروگریس انڈیکس کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں 81 فیصد لاطینو والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی پرورش کے اخراجات اب بالکل قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں عام خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے والدین شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریباً 80 فیصد لاطینو افراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے اردگرد کے لوگ کس طرح فیملی رکھنے اور اس کے اخراجات اٹھانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار امریکہ میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور متوسط طبقے کو درپیش شدید چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 59 فیصد لاطینو والدین خود کو 'سینڈوچ جنریشن' کا حصہ سمجھتے ہیں، جنہیں بیک وقت اپنے بچوں اور بوڑھے والدین دونوں کی مالی ذمہ داریاں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔ ان حالات کے باوجود، 51 فیصد والدین کا یہ ماننا ہے کہ اپنے توسیعی خاندان (extended family) کو مالی مدد فراہم کرنا ان کے لیے ایک ناقابلِ تردید فرض ہے، جسے وہ کسی بھی صورت میں ترک نہیں کر سکتے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافے اور اجرتوں میں سست رفتار ترقی نے اقلیتی طبقات، بالخصوص لاطینو کمیونٹی کے مالیاتی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب مالیاتی اداروں اور پالیسی سازوں کی طرف سے امدادی اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ ان خاندانوں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ سے نکالا جا سکے اور مستقبل میں ان کی مالی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے.