LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی ایران کے خلاف اقتصادی جنگ اور نئی پابندیاں

News Image
امریکہ نے ایران کے خلاف اب تک کی سب سے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد تہران کو مکمل طور پر تنہا کرنا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں عالمی مالیاتی منڈیوں اور بانڈ مارکیٹ میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
واشنگٹن نے ایران کے خلاف اپنی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے اسے اقتصادی جنگ کا نام دیا ہے اور تہران پر اب تک کی سب سے سخت پابندیاں عائد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق اس نئی حکمت عملی کا مقصد ایرانی حکومت کو مالی طور پر مفلوج کرنا اور بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر تنہا کرنا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں ایک بار پھر تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی لائنز پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن فی الحال بڑے پیمانے پر براہ راست فوجی تصادم میں دوبارہ داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ اس کے بجائے زیادہ توجہ سخت اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے نفاذ پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی بانڈ مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جہاں پہلے ہی عالمی افراط زر اور کساد بازاری کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ان تازہ ترین فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے دباؤ کے باوجود ملکی معیشت اور تجارت کو جاری رکھنے کے متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا، ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایران کے اہم تجارتی شراکت دار اس نئی امریکی پابندیوں کی لہر کے دوران تہران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو کس طرح برقرار رکھتے ہیں۔