LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں خواتین کی صورتحال اور طالبان کی پالیسیاں

News Image
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال اور خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران ملک میں خواتین کے حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، افغانستان میں خواتین کو تعلیم، روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے، جس نے معاشرے کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ مختلف عالمی میڈیا رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغان خواتین کو جن پابندیوں کا سامنا ہے، انہوں نے ان کی زندگی کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔ امریکہ کے انخلا اور طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اندرونِ ملک مخالفت اور مزاحمت کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی مباحثے جاری ہیں۔ سفارتی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ عالمی برادری افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر لائحہ عمل اختیار کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال پر دنیا بھر کی خاموشی افسوسناک ہے اور اس سے افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو مزید شہہ مل رہی ہے۔ پانچ سالہ سنگ میل عبور کرنے کے بعد، افغان اتحادی اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح اس بحران سے نمٹا جائے۔ عالمی اداروں سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر دباؤ بڑھائیں تاکہ خواتین کے بنیادی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ افغان خواتین کے لیے حالات بدستور ناگفتہ بہ ہیں اور انہیں روزمرہ کی زندگی میں شدید ترین پابندیوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔