LIVE
Loading Breaking News...

مکہ پیکٹ اور پاکستان سعودی عرب ترکی دفاعی اتحاد پر بھارت کا ردعمل

News Image
ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ دفاعی معاہدے پر نئی دہلی میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت اور تجزیہ کار اس ممکنہ اتحاد کے خطے پر پڑنے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
نئی دہلی میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک ممکنہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کے حوالے سے سفارتی اور عسکری حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے منصوبے سامنے رکھے ہیں، جس کے بعد خطے کے اسٹریٹجک منظرنامے میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ لوئی انسٹی ٹیوٹ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں اس پیش رفت کو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اور عسکری حلقوں کی جانب سے اس ممکنہ معاہدے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارتی جنرلز کی طرف سے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی اس اتحاد کو اپنی سلامتی کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس نوعیت کے بیانات سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، بالخصوص پاکستان اور بھارت کے روایتی تعلقات کے تناظر میں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی جیسے اہم اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی دفاعی روابط نئی دہلی کے اسٹریٹجک کیلکولس کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر خطے میں کسی قسم کی عسکری کشیدگی پیدا ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں اس دفاعی اتحاد کے عملی اثرات کیا ہوں گے۔ تجزیہ کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ محض سفارتی بیان بازی تک محدود رہے گا یا اس کے عملی دفاعی نتائج برآمد ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں اس مجوزہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات اور اس پر بین الاقوامی ردعمل خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ نئی دہلی میں پالیسی ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس ابھرتے ہوئے سکیورٹی بلاک کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیوں کو بھی تیز کر دیا ہے اور تمام فریقین صورتحال کی باریک بینی سے نگرانی کر رہے ہیں۔