Business
اگست میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، امریکی قرضوں کے خدشات
امریکہ کے بڑھتے ہوئے مالیاتی قرضوں کے خدشات کے باعث اگست کے مہینے میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کمزور ڈالر اور ٹیکنیکل سپورٹ کی وجہ سے سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
اگست کے مہینے کے دوران عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے مالیاتی قرضوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے شدید خدشات ہیں۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کی فنانشل مارکیٹس میں ایک ہلچل مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر قیمتی دھاتوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی معیشت کے غیر یقینی مستقبل اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ نے سرمایہ کاروں کو روایتی اثاثوں سے نکال کر سونے اور چاندی کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسری جانب ڈالر کی قدر میں کمی اور مثبت ٹیکنیکل اشاریوں نے بھی اس تیزی کو مزید تقویت بخشی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں تین ماہ کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مسلسل ہفتہ وار سیشنز میں بھی اس کے مثبت رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں سونے میں سرمایہ کاری سب سے محفوظ اور منافع بخش سمجھی جا رہی ہے۔ چاندی کی مارکیٹ میں بھی زبردست تیزی کا رجحان پایا جا رہا ہے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر معاشی صورتحال ایسی ہی رہی تو آنے والے دنوں میں قیمتی دھاتیں مزید نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی ٹریژری کی نقل و حرکت اور عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں بھی اس پورے معاملے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سونے کی قیمتوں میں اس اضافے سے نہ صرف عالمی سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ مقامی منڈیوں میں بھی اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔