LIVE
Loading Breaking News...

مانچسٹر حملہ: ملزم کی طرف سے دہشتگردی کی معلومات چھپانے کے الزام کی تردید

News Image
مانچسٹر میں پیش آنے والے ایک واقعے کے دوران انچاس سالہ شخص حکمت عمر علی حکیم نے عدالت میں دہشتگردانہ سرگرمیوں کی معلومات نہ دینے کا الزام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ قانونی کارروائی برطانیہ کی عدالت میں انجام دی گئی جہاں ملزم نے باضابطہ طور پر خود پر عائد فرد جرم کو مسترد کیا۔
برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع ایک سناتگ پر حملے کے سلسلے میں قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انچاس سالہ حکمت عمر علی حکیم نامی شخص نے عدالت میں پیش ہو کر اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے کسی بھی دہشتگردانہ سرگرمی کے بارے میں اہم معلومات حکام سے چھپائی تھیں۔ برطانوی حکام کے مطابق اس کیس کی تفتیش انتہائی سنجیدگی سے کی جا رہی ہے اور سکیورٹی ادارے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران ملزم کے وکلاء اور استغاثہ کے درمیان مختلف قانونی نکتوں پر بات چیت ہوئی۔ حکمت عمر علی حکیم پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسے دہشتگردانہ سرگرمیوں یا منصوبوں کے بارے میں پیشگی علم تھا مگر اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وقت پر مطلع نہیں کیا۔ تاہم، ملزم نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اپنے اوپر عائد فرد جرم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب اس مقدمے کی مزید سماعت کے لیے اگلی تاریخ مقرر کی جا رہی ہے جہاں دونوں فریقین اپنے شواہد اور دلائل پیش کریں گے۔ برطانوی انسداد دہشتگردی کے ادارے اس واقعے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس حملے کے پیچھے موجود اصل حقائق کو منظر عام پر لایا جا سکے۔ مقامی کمیونٹی میں اس واقعے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، تاہم پولیس اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور قانونی عمل شفاف طریقے سے مکمل ہو سکے۔