LIVE
Loading Breaking News...

نارڈ سٹریم دھماکے: مشتبہ یوکرینی غوطہ خور ولادیمیر ژورایولیف کی کہانی

News Image
جرمن حکام نے ایک یوکرینی غوطہ خور ولادیمیر ژورایولیف پر نورڈ سٹریم گیس پائپ لائن دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس اہم تفتیش نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
جرمن حکام نے حال ہی میں نورڈ سٹریم گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنانے والے بم دھماکوں کے معاملے میں ایک یوکرینی غوطہ خور ولادیمیر ژورایولیف کو اہم مشتبہ ملزم کے طور پر نامزد کیا ہے۔ یہ دھماکے یورپی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایک بڑا حملہ تھے جس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی تھی اور اب اس کی تفتیش نئے موڑ پر داخل ہو چکی ہے۔ جرمن تفتیش کاروں کے مطابق، ولادیمیر ژورایولیف اس پیچیدہ تخریب کاری کے نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتا ہے جس نے بالٹک سمندر کے نیچے موجود گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچایا۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ نورڈ سٹریم پائپ لائنز کے ذریعے روس سے یورپ کو گیس کی فراہمی کی جاتی تھی، اور ان دھماکوں نے خطے میں توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا تھا۔ مغربی اور یوکرینی ذرائع اس بات کی تردید یا تصدیق میں مصروف ہیں کہ اس کارروائی کے پیچھے سرکاری سطح پر کن عناصر کا ہاتھ تھا، تاہم انفرادی سطح پر ولادیمیر ژورایولیف جیسے کرداروں کی موجودگی نے اس پورے سکینڈل کو ہالی ووڈ کی کسی سنسنی خیز فلم جیسا بنا دیا ہے۔ تفتیشی اداروں کا ماننا ہے کہ زیرِ آب پائپ لائنوں کو تباہ کرنے کے لیے پیشہ ورانہ غوطہ خوری کی مہارت اور بارود کا استعمال کیا گیا، جو کہ کسی عام فرد کا کام نہیں ہو سکتا۔ ولادیمیر ژورایولیف کی مبینہ شمولیت کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے جرمن پولیس اور دیگر یورپی ادارے گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے جیو پولیٹیکل سبوتاز کیسز میں سے ایک قرار پائے گا، جس کے اثرات طویل عرصے تک بین الاقوامی سیاست پر مرتب رہیں گے۔