LIVE
Loading Breaking News...

مارک زکربرگ کا چینی اے آئی ماڈلز پر پابندی کے خلاف سخت انتباہ

News Image
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے خبردار کیا ہے کہ چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر پابندی لگانے سے انڈسٹری میں اجارہ داری قائم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے اقدامات سے مسابقت ختم ہو جاتی ہے اور ریگولیٹری کیپچر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں چینی ماڈلز پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف تکنیکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ اس سے مارکیٹ میں چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ زکربرگ کے مطابق، سخت پابندیوں کی وجہ سے شفاف مسابقت کا ماحول ختم ہو جاتا ہے جو کہ طویل مدت میں پوری انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں زکربرگ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کی ترقی اور اس کی سلامتی کے ضابطوں پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ چینی اے آئی ماڈلز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے مارکیٹس میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں سیاسی بنیادوں پر پابندیاں لگانے سے نہ صرف اختراعی عمل سست پڑ سکتا ہے بلکہ دنیا بھر کے صارفین بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم رہ سکتے ہیں۔ مارک زکربرگ نے مزید کہا کہ ریگولیشن کا مقصد تخریب کاری یا مقابلے کو روکنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد شفافیت اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومتیں اس شعبے میں زیادہ سخت گیر رویہ اختیار کریں گی تو اس سے نام نہاد 'ریگولیٹری کیپچر' کے دروازے کھل جائیں گے، جہاں پرانی اور بڑی کمپنیاں نئے حریفوں کو مارکیٹ سے باہر کرنے کے لیے حکومتی قوانین کا استعمال کرنے لگتی ہیں۔ مستقبل کے تناظر میں، ماہرین نے بھی زکربرگ کے ان خیالات کی تائید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اصول و ضوابط طے کرتے وقت کھلے پن کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ پابندیوں کے بجائے مشترکہ معیارات اور تعاون ہی وہ راستہ ہے جس سے ٹیکنالوجی کو انسانیت کی بہتری کے لیے بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔