Business
بھارت میں نیوکلیئر انرجی کی ترویج اور معاشی چیلنجز
بھارت کا نیا قانونِ شانتی ملک میں نیوکلیئر انرجی کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے بنایا گیا ہے تاہم اس کے تحت بننے والے پلانٹس کی بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ سستے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے مقابلے میں نیوکلیئر بجلی کی معیشت فی الحال غیر مسابقتی دکھائی دے رہی ہے۔
بھارت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے قانونِ شانتی نے ملک میں نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس قانون کا بنیادی مقصد نجی شعبے کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہری توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت نے سال 2047 تک ملک میں نیوکلیئر صلاحیت کو ایک سو گیگا واٹ تک پہنچانے کا انتہائی پرامید ہدف مقرر کیا ہے تاکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ملکی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔تاہم، اس بڑی پالیسی کے نفاذ کے سامنے سب سے بڑا اور پیچیدہ چیلنج معاشی اور مالیاتی نوعیت کا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق، نئے جوہری بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی بجلی کے ٹیرف یا نرخ موجودہ مارکیٹ میں انتہائی غیر مسابقتی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں سولر اور ونڈ انرجی جیسے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع انتہائی کم نرخوں پر باآسانی دستیاب ہیں، جن کا مقابلہ کرنا جوہری توانائی کے لیے ابتدائی مرحلے میں بہت مشکل ہوگا۔اس معاشی خلیج کو پُر کرنے کے لیے اب یہ بات زیرِ غور ہے کہ مرکزی حکومت کو اس شعبے کی طویل مدتی بقا اور تجارتی کامیابی کے لیے ایک خصوصی مالیاتی امدادی پیکج کا اعلان کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ سبسڈی یا مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو سرمایہ کاروں کا اس شعبے میں طویل عرصے تک برقرار رہنا مشکوک ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت کی طویل المدتی جوہری توانائی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے سے پہلے معاشی توازن کو برقرار رکھنا حکومتی پالیسی سازوں کے لیے ایک کڑے امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔