Technology
ہوٹلوں کے پرانے سافٹ ویئر سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ
ہوٹل انڈسٹری میں استعمال ہونے والے پرانے پراپرٹی مینجمنٹ سسٹمز روزمرہ کے امور تو بخوبی انجام دے رہے ہیں لیکن سائبر سیکیورٹی کے جدید تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ ماہرین نے ہوٹلوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کریں تاکہ مسافروں کا ڈیٹا محفوظ رہ سکے۔
آج کے دور میں ہوٹل انڈسٹری ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جہاں مہمانوں کی بکنگ سے لے کر چیک ان تک کے تمام امور ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ تاہم، بہت سے ہوٹل اب بھی پرانے پراپرٹی مینجمنٹ سسٹمز استعمال کر رہے ہیں جو روزمرہ کے آپریشنز کے لیے تو کارآمد ثابت ہوتے ہیں، مگر سائبر سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی سسٹم کا 'ابھی تک کام کرنا' اور اس کا 'محفوظ ہونا' دو بالکل الگ باتیں ہیں، جن پر ہوٹل انتظامیہ کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
جدید ہوٹل ایک ایسے ہائپر کنیکٹڈ ڈیجیٹل ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں مختلف سافٹ ویئرز اور تھرڈ پارٹی سسٹمز ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ جب ہوٹل پرانے اور آؤٹ ڈیٹڈ سسٹمز کا استعمال جاری رکھتے ہیں، تو وہ ہیکرز اور سائبر مجرموں کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ پرانے سسٹمز میں سیکیورٹی پیچز یا اپ ڈیٹس باقاعدگی سے نہیں آتیں، جس کی وجہ سے ان میں سوراخ یا کمزوریاں رہ جاتی ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر میل وئیر اور رینسم ویئر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
صرف اندرونی آپریشنز ہی نہیں بلکہ ہوٹلوں میں آنے والے لاکھوں مسافروں کا ذاتی اور مالیاتی ڈیٹا بھی خطرے کی زد میں ہوتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ کی معلومات، پاسپورٹ کی تفصیلات اور رابطے کے نمبرز جیسی حساس معلومات اگر محفوظ ہینڈز میں نہ ہوں، تو بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی چوری کا خدشہ رہتا ہے۔ اس سے نہ صرف ہوٹل کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ قانونی چارہ جوئی اور مالی جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ہوٹل انڈسٹری پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو فوری طور پر جدید بنائیں۔ پرانے سسٹمز کو مرحلہ وار ختم کر کے کلاؤڈ بیسڈ اور جدید سیکیورٹی پروٹوکولز سے لیس سافٹ ویئرز کا نفاذ کیا جائے تاکہ مسافروں کا اعتماد بحال رہے اور ہوٹل کے کاروبار کو کسی بھی ممکنہ سائبر خطرے سے محفوظ رکھا جا سکےـ