Technology
آئی سی اے آر سی آئی ایف ٹی تحقیق کو آسام کرم شری ایوارڈ
آئی سی اے آر سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ٹیکنالوجی اور ورلڈ فش کے اشتراک سے مچھلی پر مبنی غذائیت کی تحقیق کو آسام حکومت کے کرم شری ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ خطے میں پائیدار خوراک اور غذائی تحفظ کے لیے کی گئی گراں قدر خدمات کا اعتراف ہے۔
نئی دہلی: کوچی میں واقع آئی سی اے آر سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ٹیکنالوجی (ICAR-CIFT) کی جانب سے مچھلی پر مبنی غذائیت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کی جانے والی شاندار تحقیقات کو آسام حکومت کے باوقار 'کرم شری' ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی انسٹی ٹیوٹ کی طویل مدتی شراکت داری اور ورلڈ فش کے ساتھ مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں خوراک اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کردہ جدید تکنیکوں نے دیہی علاقوں میں مچھلی کی پروسیسنگ اور اس کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد مقامی آبادی بالخصوص خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کا خاتمہ کرنا اور مچھلی کے ذریعے سستی اور معیاری پروٹین کی فراہمی کو ممکن بنانا تھا۔ آسام حکومت کی جانب سے یہ ایوارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی تحقیق اور زمینی سطح پر فلاحی کاموں کا امتزاج کس طرح معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ ورلڈ فش کے اشتراک سے چلائے جانے والے ان منصوبوں نے نہ صرف ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کی آمدنی میں اضافہ کیا بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی مدد فراہم کی ہے۔
ایوارڈ ملنے پر ماہرین اور سائنسدانوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری ٹیم کی محنت کا ثمر قرار دیا ہے۔ آئی سی اے آر سی آئی ایف ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز مستقبل میں مزید بہتر اور جدید تحقیق کے لیے ان کے عزم کو اور زیادہ مضبوط کرے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کامیابی کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی ماہی گیری اور غذائیت کے شعبے میں اس طرح کے ماڈلز کو اپنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے مستفید کیا جا سکے اور دیہی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے گا۔