LIVE
Loading Breaking News...

روس اور یوکرین جنگ: ماسکو نئے امن خیالات کے لیے تیار

News Image
روسی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے ایسے نئے خیالات اور تجاویز پر غور کرنے کو تیار ہے جو صدر ولادیمیر پوٹن کے طے شدہ اہداف سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ڈپٹی وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن ماسکو کے مطالبات پر توجہ دے گا۔
ماسکو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر نئے خیالات اور تجاویز سننے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ یہ تجاویز صدر ولادیمیر پوٹن کے بنیادی اسٹریٹجک اہداف کے مطابق ہوں۔ روسی ڈپٹی وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ روس بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے بات چیت سے گریز نہیں کرتا، لیکن ملکی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ روسی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اس تنازع کے ممکنہ سفارتی حل کے لیے مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ماسکو کی جانب سے امریکہ اور مغربی ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ روسی مؤقف کو سنجیدگی سے سمجھیں اور تنازع کے بنیادی اسباب کو حل کرنے کی طرف توجہ مبذول کریں۔ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس کی جانب سے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں اور اگر واشنگٹن یا دیگر مغربی دارالحکومتوں کی طرف سے کوئی ایسی تعمیری تجویز پیش کی جاتی ہے جو زمینی حقائق اور روسی سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، تو ماسکو اس کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان یوکرین کے تنازع میں طویل تعطل کے بعد سفارتی محاذ پر لچک دکھانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کے لیے فریقین کے درمیان اعتماد کی سخت کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس کشیدگی نے عالمی معیشت اور سکیورٹی کو شدید متاثر کیا ہے، اور تمام عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس جنگ کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا مغربی ممالک ماسکو کی اس پیشکش کا کیا جواب دیتے ہیں اور کیا واقعی کوئی ایسی مشترکہ بنیاد تلاش کی جا سکتی ہے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہو۔