LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی فیملی دفاتر کے اثاثے ڈیڑھ گنا بڑھنے کی پیشگوئی

News Image
بھارت میں بڑھتی ہوئی دولت اور فعال سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کے باعث فیملی دفاتر کے اثاثے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق ان اداروں کے زیر انتظام اثاثے اگلے تین سالوں میں ڈیڑھ گنا تک بڑھ جائیں گے۔
نئی دہلی: جولیئس بائر اور ای اینڈ وائی (EY) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بھارت میں فیملی دفاتر کے زیر انتظام اثاثے آنے والے تین سالوں کے دوران ڈیڑھ گنا تک بڑھنے کی توقع ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی انفرادی دولت اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر فعال سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کی طرف منتقلی اس تیزی سے ترقی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہ ادارے اب محض دولت کے محافظ نہیں رہے بلکہ ملکی معیشت میں ایک طاقتور سرمایہ کاری فورس کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارتی خاندانوں کی اگلی نسلیں اپنے کاروبار اور سرمایہ کاری کے معاملات میں زیادہ پیشہ ورانہ اور جدید رجحانات اپنا رہی ہیں۔ وہ وینچر کیپیٹل، پرائیویٹ ایکویٹی اور گلوبل مارکیٹس میں خط مول لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے ان فیملی دفاتر کے دائرہ کار میں نمایاں وسعت آ رہی ہے۔ اس تبدیلی کی بدولت نہ صرف ان کے ذاتی سرمائے میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ملک کے مجموعی اسٹارٹ اپ اور کارپوریٹ سیکٹر کو بھی تقویت مل رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت میں نئے کاروباری مواقع اور ٹیک انڈسٹری کی ترقی نے اس دولت کو ایک نئی سمت دی ہے۔ فیملی دفاتر اب صرف رئیل اسٹیٹ یا سونا خریدنے تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ ہائی ٹیک پروجیکٹس، بائیو ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں بھی دل کھول کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کے اثاثوں کی مالیت میں شاندار اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔