Technology
ریلیویٹی نیٹ ورکس نے AI فائبر ٹیکنالوجی کے لیے 22 ملین ڈالر فنڈنگ حاصل کر لی
آرلینڈو سے تعلق رکھنے والی کمپنی ریلیویٹی نیٹ ورکس نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے تیز رفتار فائبر کی تیاری کے لیے 22 ملین ڈالر کی فنڈنگ اکٹھی کر لی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کو ایک بڑے کلاؤڈ پرووائیڈر کی جانب سے 40 ملین ڈالر کا تجارتی آرڈر بھی موصول ہوا ہے۔
آرلینڈو پر مبنی ٹیکنالوجی کمپنی ریلیویٹی نیٹ ورکس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے فائبر آپٹکس کے نظام کو مزید تیز بنانے کی غرض سے 22 ملین ڈالر کی نمایاں فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق کمپنی نے فنڈنگ کے اس دور کو کامیابی سے مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے کلاؤڈ پرووائیڈر سے 40 ملین ڈالر مالیت کا ایک اہم تجارتی آرڈر بھی حاصل کر لیا ہے، جو اس نئی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مانگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور لارج لینگویج ماڈلز کے سائز اور پیچیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کے اندر اور درمیان ڈیٹا کی منتقلی کی رفتار کو بہتر بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ریلیویٹی نیٹ ورکس اسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے اور وہ ایک ایسے جدید اور تیز تر فائبر کی پیشکش کر رہی ہے جو روایتی نیٹ ورکس کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کے ورک لوڈز کو روشنی کی رفتار کے انتہائی قریب رفتار کے ساتھ منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے موصول ہونے والا 40 ملین ڈالر کا یہ نیا تجارتی آرڈر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بڑی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنیاں اب اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے، نیٹ ورکنگ اور ڈیٹا ٹرانسفر کی یہ رفتاریں مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر جائیں گی۔ ریلیویٹی نیٹ ورکس اس فنڈنگ کو اپنی مصنوعات کی تیاری اور تجارتی پیمانے پر فراہمی کے لیے استعمال کرے گی۔