LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سکیورٹی لیک: نو ملین چہروں کی شناخت کی تصاویر افشا

News Image
ایک سکیورٹی تحقیق کے دوران شناخت کی تصدیق کرنے والی سروس کے ڈیٹا بیس سے نو ملین سے زائد تصاویر لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سنگین سکیورٹی خامی کے بعد صارفین کی شناخت چوری ہونے اور فشنگ حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ایک سکیورٹی محقق نے شناخت کی تصدیق اور ریورس امیজ سرچ فراہم کرنے والی معروف سروس کلیرٹی چیک کے حوالے سے ایک بڑے سکیورٹی اسکینڈل کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کا ایک بڑا ڈیٹا بیس بغیر کسی حفاظتی پاس ورڈ یا سکیورٹی کے انٹرنیٹ پر کھلا پڑا تھا، جو کہ تقریباً ساڑھے چار سو گیگا بائٹس پر مشتمل تھا۔ اس غیر محفوظ اور کھلے ہوئے ڈیٹا بیس میں نو ملین سے زائد صارفین کی نجی تصاویر اور چہروں کے کوائف موجود تھے جو اب افشا ہو چکے ہیں۔ افشا ہونے والے اس ڈیٹا میں صارفین کے چہروں کی شناخت کے علاوہ پروفائلز اور مختلف ذاتی تصاویر شامل ہیں، جس سے سکیورٹی کے ماہرین سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا لیک ہونا صارفین کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف شناخت چوری ہونے کے خطرات پیدا ہوتے ہیں بلکہ ہیکرز اور جعل ساز اس ڈیٹا کو فشنگ حملوں اور دیگر مجرمانہ مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد متعلقہ کمپنی نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اپنے اس غیر محفوظ ڈیٹا بیس کو محفوظ بنا لیا ہے اور مزید نقصان کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے ایک بار پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صارفین کے ذاتی ڈیٹا اور بایومیٹرک معلومات کی سکیورٹی کے حوالے سے بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔