LIVE
Loading Breaking News...

کسٹمر سروس میں اے آئی بوٹس: اخراجات میں کمی کا دعویٰ کمزور

News Image
صارفین کی خدمت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی بوٹس کے ذریعے اخراجات کم کرنے کا دعویٰ اب حقیقت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ کاروبار اب روایتی اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے دوبارہ انسانی عملے کی طرف واپسی پر غور کر رہے ہیں۔
کاروباری دنیا میں کسٹمر سروس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھا تھا، لیکن حالیہ تجزیوں سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ان خودکار بوٹس کے ذریعے اخراجات میں کمی کا دعویٰ اب کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ کسٹمر سپورٹ کے تمام معمول کے کام اے آئی ایجنٹس کے سپرد کرنے سے اربوں روپے کی بچت ہوگی، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آرہے ہیں۔ ابتدائی طور پر روایتی اور زیادہ مقدار والے کسٹمر کے سوالات کو خودکار نظام پر منتقل کر دیا گیا تھا، جبکہ انسانی ایجنٹس کو زیادہ پیچیدہ اور جذباتی نوعیت کے مسائل کے لیے رکھا گیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے صارفین ان اے آئی بوٹس کے ساتھ الجھن کا شکار ہوتے ہیں، کمپنیاں اس بات کا ادراک کر رہی ہیں کہ مکمل خودکار نظام صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہا ہے۔ کسٹمرز کو جب بروقت اور درست جوابات نہیں ملتے تو ان کی برانڈ سے وابستگی کم ہو جاتی ہے اور وہ متبادل اداروں کا رخ کرنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال نے کاروباری رہنماؤں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ کسٹمر سروس کی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں۔ بہت سے اداروں نے محسوس کیا ہے کہ اے آئی بوٹس کو برقرار رکھنے، ان کی دیکھ بھال اور وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کے اخراجات بعض اوقات انسانی عملے کی تنخواہوں کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تکنیکی خرابیوں اور غلط جوابات کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی انسانی مداخلت کی ضرورت پڑتی ہے۔ نتیجتاً، اب کمپنیاں ایک متوازن راستہ تلاش کر رہی ہیں جہاں اے آئی کو صرف ابتدائی اور انتہائی آسان نوعیت کے کاموں تک محدود رکھا جائے، جبکہ کلیدی اور اہم کسٹمرز کے لیے انسانی عملے کو ہی مقدم رکھا جائے۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، کسٹمر کے ساتھ انسانی تعلق اور ہمدردی کا نعم البدل فراہم کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔