Technology
مصنوعی ذہانت اور جونیئر ملازمین: سی این بی سی کا نیا سروے
سی این بی سی کے ایک نئے سروے کے مطابق جونیئر سطح کے ملازمین کی جانب سے کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ملازمین کے درمیان واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس موضوع پر ماہرین اور تجربہ کار افراد کے خیالات بھی منقسم ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والے ایک تازہ ترین سروے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کام کی جگہ پر جونیئر سطح کے ملازمین کی طرف سے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے حوالے سے ملازمین کے خیالات میں شدید اختلاف موجود ہے۔ سی این بی سی اور سروے مانکی کی جانب سے مشترکہ طور پر شائع کردہ کوارٹرلی اے آئی اینڈ جابز سروے میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے معاملے پر ورک فورس دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف جہاں کچھ لوگ اس بات کے حامی ہیں کہ جدید دور میں اے آئی کا استعمال ہر سطح کے ملازمین کے لیے ناگزیر ہے، وہیں دوسری طرف ایک بڑا طبقہ اس پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق، تجربہ کار اور سینئر ملازمین کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ جونیئر ملازمین کو اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنے کے لیے روایتی طریقوں پر زیادہ انحصار کرنا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر شروعاتی سطح پر ہی اے آئی ٹولز کا حد سے زیادہ استعمال کیا جائے تو اس سے ملازمین کی اپنی سوچنے کی صلاحیت، تخلیقی عمل اور مسائل کو حل کرنے کی بنیادی مہارتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب، ڈیجیٹل دور کے حامیوں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اوزار پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھا سکتے ہیں اور جونیئر ملازمین کو پیچیدہ کاموں کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے کمپنیوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی ایک نیا مخمصہ پیدا کر دیا ہے کہ آیا وہ اپنے نئے ملازمین کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق کوئی واضح اور سخت ضابطہ اخلاق مرتب کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹولز نے جہاں ایک طرف دفتری امور کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری طرف کارکردگی اور دیانت داری کے حوالے سے نئے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحث مزید زور پکڑنے کا امکان ہے کیونکہ کمپنیاں تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کو اپنے روزمرہ کے امور میں شامل کر رہی ہیں۔