LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں غیر قانونی کال سینٹرز کیخلاف ملک گیر آپریشن کا فیصلہ

News Image
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر چلنے والے کال سینٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ حال ہی میں چینی شہریوں کی گرفتاری اور سائبر کرائم نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستان بھر میں غیر قانونی طور پر چلنے والے کال سینٹرز کے خلاف ایک بڑے ملک گیر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ حال ہی میں سامنے آنے والے ان واقعات کے بعد کیا گیا ہے جن میں غیر ملکی بالخصوص چینی شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورکس مبینہ طور پر مختلف آن لائن فراڈ اور ٹیلی کام دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے جس پر قابو پانے کے لیے اب حکومتی سطح پر جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وفاقی حکومت اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو تین چینی شہریوں کی حراست کے معاملے پر جواب دینے کے لیے ایک دن کی مہلت دی ہے۔ عدالت عالیہ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کی حراست اور ان کے قانونی حقوق کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ اس عدالتی کارروائی نے معاملے کی حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے اور حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان میں غیر ملکی فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار نمایاں طور پر وسیع کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں بڑی تعداد میں چینی شہری بھی شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے بعد چین نے بھی ٹیلی کام فراڈ اور اس قسم کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومت پاکستان کا ماننا ہے کہ ملک میں اس قسم کے غیر قانونی کال سینٹرز نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔ اسی پس منظر میں وفاقی حکومت نے تمام صوبائی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایسے مراکز کے خلاف فوری کارروائیاں کریں۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کریک ڈاؤن میں مزید تیزی آئے گی اور اس گھناؤنے دھندے میں ملوث تمام ملکی اور غیر ملکی عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔