Business
رائل میل کی ترسیلی کارکردگی میں بہتری کے باوجود اہداف پورے نہ ہو سکے
برطانوی ادارے رائل میل نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ریگولیٹر کی طرف سے مقرر کردہ ترسیلی اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ تاہم ادارے نے مجموعی کارکردگی میں بہتری کے اشاروں کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
برطانیہ کے معروف ترسیلی ادارے رائل میل نے ایک بار پھر اپنے مقرر کردہ ترسیلی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ ادارے کے مطابق، اگرچہ ان کی کارکردگی میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے تاہم ریگولیٹر کی جانب سے طے کردہ سخت پیمانے پر پورا اترنا ابھی باقی ہے۔ رائل میل طویل عرصے سے مالی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور وقت پر خطوط اور پارسلز کی ترسیل کے حوالے سے اسے صارفین کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے انرجی اور لاجسٹکس کے شعبے میں درپیش مشکلات کے باوجود کارکردگی میں بہتری کے رجحان کو 'حوصلہ افزا' قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ آنے والے دنوں میں سروس کے معیار کو مزید بلند کیا جائے گا تاکہ صارفین کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور ریگولیٹری اداروں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعلقہ ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ رائل میل کو اپنی کارکردگی میں مزید تیزی سے بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ترسیلی اہداف کا بار بار پورا نہ ہونا اس بات کا غماز ہے کہ اندرونی نظام میں ابھی مزید اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ رائل میل کے لیے ڈیجیٹل دور میں روایتی اور جدید ترسیلی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، اور ادارے کی طویل مدتی کامیابی کا دارومدار جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال پر ہے۔