Business
جنوبی کوریا اسٹاک مارکیٹ سیمی کنڈکٹر بحران جولائی 35 فیصد گراوٹ
جنوبی کوریا کے حصص بازار میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے کی شدید مندی کے باعث جولائی میں 35 فیصد بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس بحران کے نتیجے میں مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا اور حکام کو سرکٹ بریکرز فعال کرنا پڑے۔
جنوبی کوریا کے مالیاتی بازار میں جولائی کے مہینے کے دوران ایک تاریخی اور شدید مندی دیکھی گئی ہے، جہاں اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر 35 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بڑی گراوٹ بنیادی طور پر عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر اور چپ سازی کے شعبے میں رونما ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ سیمی کنڈکٹر کی صنعت جنوبی کوریا کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس شعبے میں اچانک بحران آنے سے پوری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مارکیٹ میں اس اچانک اور شدید مندی کے بعد حکام کو ہنگامی اقدامات اٹھانا پڑے، اور حصص بازار میں مزید نقصان کو روکے جانے کی غرض سے فوری طور پر سرکٹ بریکرز فعال کر دیے گئے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد گھبرائے ہوئے سرمایہ کاروں کو قابو میں رکھنا اور مارکیٹ کے اندرونی نظام کو مکمل بیٹھ جانے سے بچانا ہے۔ اس حالیہ بحران نے اس بات کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ایک مخصوص صنعتی شعبے پر حد سے زیادہ انحصار معیشت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی یہ غیر یقینی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ کی یہ یکطرفہ ارتکاز پالیسی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور طویل مدت میں وسیع تر معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر جنوبی کوریا کی حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد متبادل اقتصادی حکمت عملی تیار نہیں کرتے، تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے میں طویل وقت لگ سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سپلائی چین پر بھی پڑیں گے۔