World
یمن کی المخا بندرگاہ بند، مزدوروں اور تاجروں میں تشویش
حوثی حملوں کے باعث یمنی بندرگاہ المخا کے معطل ہونے سے سیکڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس اچانک بندش نے خطے کے کاروباری حلقوں اور تاجروں میں مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
یمن کی اہم ترین تجارتی تنصیبات میں سے ایک، المخا بندرگاہ کی بندش نے مقامی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے مسلسل حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس بندرگاہ کو اپنے تمام تر آپریشنز معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے بعد سے یہاں کام کرنے والے مزدوروں اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے طبقے کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ بندرگاہ کی اچانک بندش نے یمن کے اس خطے میں کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بندرگاہ کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردونورد اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے براہ راست اثرات عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔ ہزاروں مزدور جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس بندرگاہ سے منسلک تھے، اب بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کے پاس اپنے اہل خانہ کے گزر بسر کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں ہے۔ دوسری طرف، تاجر برادری بھی اس صورتحال پر شدید پریشانی کا اظہار کر رہی ہے۔ درآمد اور برآمد کا سلسلہ رک جانے کی وجہ سے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے، اور وہ اس بات سے سخت فکر مند ہیں کہ اگر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو ان کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ مقامی تاجروں اور مزدور یونینز نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بندرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے فوری طور پر اس کے بحالی کے اقدامات کیے جائیں تاکہ معاشی پہیہ دوبارہ چل سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر المخا بندرگاہ کی بندش طویل ہوتی ہے تو اس سے پورے خطے میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بندرگاہ یمن کی معیشت اور خوراک کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی برادری کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مزدوروں کے روزگار اور تاجروں کے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔