LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے اور فلسطینی زمینوں کا حصول

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر متعدد حملے کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔ الجزیرہ کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق قانون کی ناکامی اور ریاستی سرپرستی فلسطینی آبادی کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی اور تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار اور تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی کنارے میں آباد کار روزانہ اوسطاً چھ بار مختلف طریقوں سے حملے کرتے ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنا اور ان کی زمینوں پر جبراً قبضہ کرنا ہے۔ الجزیرہ کے ریسرچ یونٹ (اے جے لیبز) نے اپنی ایک گہرائی سے کی گئی رپورٹ میں اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ کس طرح منظم طریقے سے فلسطینی زمینوں کو ہتھیایا جا رہا ہے اور قانون اس پورے عمل میں کس کا ساتھ دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں قانون کی عملداری اور انصاف کا نظام اسرائیلی آباد کاروں کے حق میں جھکا ہوا ہے، جبکہ مقامی فلسطینی آبادی کو اپنے دفاع یا قانونی چارہ جوئی کے لیے انتہائی محدود مواقع حاصل ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے بحران کو جنم دیا ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا ہے جہاں کسان اپنی زمینوں پر جانے سے قاصر ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاستی سرپرستی اور تحفظ کے بغیر اس پیمانے پر زمینوں پر قبضے اور حملے ناممکن ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی بار اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں کو روکا جائے، تاہم زمینی حقائق میں تاحال کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو سکی ہے اور فلسطینیوں کے لیے مشکلات کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔