World
کیلیفورنیا ارب پتی ٹیکس تجویز اور عالمی اثرات
کیلیفورنیا میں نومبر کے مہینے میں ارب پتی افراد کی دولت پر ایک بار کے لیے پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر ووٹنگ کی جائے گی۔ اس ٹیکس کی مخالفت میں گوگل کے شریک بانی سیرگی برن نے سیاسی چندے کے طور پر ایک بڑی رقم خرچ کر دی ہے۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں رواں برس نومبر کے دوران ایک انتہائی اہم اور متنازعہ تجویز پر عوامی رائے شماری کی جائے گی، جس کے تحت ریاست کے تمام ارب پتی افراد کی مجموعی دولت پر ایک بار کے لیے پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس تجویز نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے بلکہ دنیا بھر کے معاشی ماہرین اور پالیسی ساز بھی اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے نتائج عالمی سطح پر ٹیکس اصلاحات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اس مجوزہ ٹیکس قانون کے خلاف مخالفت کا دائرہ کار بھی تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گوگل کے شریک بانی اور معروف ارب پتی شخصیت سیرگی برن نے اس ٹیکس تجویز کی مخالفت کرنے والے ایک سیاسی گروپ کو ناکام بنانے کے لیے ایک بڑی رقم یعنی ایک سو ملین ڈالر سیاسی چندے کی مد میں خرچ کر دی ہے۔ اس خطیر رقم کا مقصد اس مہم کو شکست دینا ہے جو ارب پتیوں کی دولت پر اس بھاری بھرکم محصول کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔
اس تنازعے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور کیلیفورنیا کا یہ معرکہ اس بحث کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تجویز کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک اور ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے جہاں حکومتیں اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے اور فلاحی کاموں کے لیے انتہائی امیر طبقے پر خصوصی ٹیکس لگانے کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نومبر میں ہونے والی یہ ووٹنگ محض کیلیفورنیا کی حد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ دوسری جانب ٹیکس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے معاشرتی ناہمواریوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ اس سے سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور صنعتکار ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آنے والے دن اس اہم معاشی معرکے کے حوالے سے مزید دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔