Technology
ایلیاں اسٹارٹ اپ نے ایک ارب ڈالر ویلیو پر 145 ملین ڈالر فنڈنگ جمع کر لی
مصنوعی ذہانت کی چپس کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی کو تیز کرنے والی کمپنی ایلیاں نے ایک ارب ڈالر کی ویلیو کے ساتھ 145 ملین ڈالر کی نئی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ڈیٹا سینٹرز میں درپیش تکنیکی مسائل کو حل کرنے اور اے آئی انڈسٹری کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سین فرانسسکو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اسٹارٹ اپ کمپنی 'ایلیاں' (Eliyan) نے وینچر فنڈنگ کے ایک نئے دور میں 145 ملین ڈالر کی خطیر رقم اکٹھی کر لی ہے۔ اس تازہ ترین فنڈنگ کے بعد اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی کی کُل مالیت یا ویلیو ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے اسے دنیا کی یونیکورن کمپنیوں کی صف میں شامل کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا بنیادی مقصد ڈیٹا سینٹرز کے اندر اے آئی چپس کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی میں حائل ہونے والی رکاوٹوں اور دباؤ کو مؤثر طریقے سے کم کرنا ہے۔ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور عمل درآمد کے دوران چپ ٹو چپ ڈیٹا ٹرانسفر ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کا حل یہ اسٹارٹ اپ پیش کر رہا ہے۔
اس فنڈنگ راؤنڈ میں معروف ٹیکنالوجی اداروں اور سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سسکو سسٹمز (Cisco Systems) اور لومینٹم (Lumentum) سمیت کئی دیگر نامور کاروباری اداروں نے اس میں حصہ لیا، جو اس ٹیکنالوجی کی افادیت اور مستقبل کی کامیابی پر ان کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی چپس کے مابین ڈیٹا کی رفتار اور بینڈوتھ میں حائل رکاوٹیں فی الحال پوری انڈسٹری کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں، اور ایلیاں کی جانب سے پیش کی جانے والی اختراعی چِپ کنیکٹیویٹی ٹیکنالوجی اس خلا کو پُر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
حاصل ہونے والی اس نئی سرمایہ کاری کو کمپنی اپنی تحقیق و ترقی کے عمل کو تیز کرنے، نئے پروڈکٹس مارکیٹ میں لانے اور اپنی ٹیم کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرے گی۔ سسکو اور لومینٹم جیسے بڑے ناموں کی شمولیت سے نہ صرف ایلیاں کی مالی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے بلکہ اسے گلوبل مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کی ترویج اور نیٹ ورکنگ میں بھی بے پناہ مدد ملے گی۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کی ہارڈویئر کی جدت طرازی مصنوعی ذہانت کی ترقی کو نئی رفتار دے گی اور ڈیٹا سینٹرز کے اخراجات میں نمایاں کمی لائے گی۔