Technology
فلॉक سیفٹی کا اے آئی پولیس ٹول، بغیر نمبر پلیٹ ٹریکنگ
فلॉक سیفٹی نے ایک نیا اے آئی پولیس ٹول متعارف کرایا ہے جو ڈرائیورز کو نام یا لائسنس پلیٹ کے بغیر بھی ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سسٹم پولیس کو گرفتاری کے ریکارڈ اور کمرشل ڈیٹا بیس تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
فلॉक سیفٹی (Flock Safety) نے ایک نیا اور جدید مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی پولیس ٹول متعارف کرایا ہے جو سکیورٹی اور نگرانی کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ نیا سسٹم ڈرائیورز کو ان کے نام یا گاڑی کی لائسنس پلیٹ کے بغیر بھی ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس نے رازداری کے حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کمپنی کے اس نئے پلیٹ فارم کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کے سدباب اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس نئے ٹول میں دکانوں، سڑکوں اور دیگر مقامات سے حاصل کردہ ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سسٹم میں پہلے سے لکھے گئے انہتر (69) پرامپٹس شامل ہیں جو پولیس کو نمبر پلیٹ کے اسکین، پرانے گرفتاری کے ریکارڈز، اور کمرشل ڈیٹا بیس تک فوری رسائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کمرشل ڈیٹا بیسز میں افراد کے حساس اعداد و شمار جیسے کہ سوشل سیکیورٹی نمبرز اور دیگر ذاتی معلومات بھی موجود ہو سکتی ہیں، جو سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان بن رہے ہیں۔
ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنان اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے طاقتور ٹولز کا استعمال شہریوں کی ذاتی زندگی میں براہ راست مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔ بغیر نام یا لائسنس پلیٹ کے گاڑیوں اور افراد کو ٹریک کرنے کی یہ صلاحیت اجتماعی نگرانی کے دائرہ کار کو خطرناک حد تک وسیع کر دیتی ہے۔ اس سے غلط شناخت اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، کیونکہ اے آئی الگزورتھم ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتے۔
دوسری جانب، فلॉक سیفٹی کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی شرح کو کم کرنے اور پولیس کے کام کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ پولیس محکمے اس نظام کے ذریعے نامعلوم ملزمان کی تلاش میں تیزی لا سکتے ہیں۔ تاہم، اس تنازعے کے بعد حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس نوعیت کے جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کے لیے سخت ضابطے اور قوانین وضع کریں تاکہ عوامی رازداری اور شہری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔