LIVE
Loading Breaking News...

بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنے کے پانچ آسان طریقے

News Image
والدین کے لیے بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنا ایک روزانہ کا چیلنج بن چکا ہے۔ اس آرٹیکل میں بغیر کسی جھگڑے یا رونے دھونے کے بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے کے پانچ بہترین طریقے بتائے گئے ہیں۔
صرف پانچ منٹ اور! اگر آپ نے یہ جملہ لاتعداد بار اپنے بچوں سے سنا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں بہت سے والدین کے لیے اپنے بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنا روزانہ کی ایک ایسی جنگ بن چکا ہے جو ہر روز لڑی جاتی ہے۔ ٹیبلٹ یا موبائل فون کو ہاتھ سے نیچے رکھنا بچوں کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے اور جب والدین اسکرین بند کرنے کا کہتے ہیں تو گھر میں رونا دھونا، غصہ اور بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل سختی یا ڈانٹ ڈپٹ نہیں بلکہ کچھ ایسی پرسکون اور سمارٹ حکمت عملی ہیں جنہیں اپنا کر بغیر کسی بڑے جھگڑے کے بچوں کو اسکرین سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات نے چند ایسے طریقے تجویز کیے ہیں جو والدین کی اس مشکل کو آسان بنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ اسکرین کے استعمال کے لیے واضح اور دو طرفہ حدود طے کی جائیں۔ بچوں کو ناگہانی طور پر اسکرین بند کرنے کا کہنے کے بجائے انہیں پہلے سے وقت کا احساس دلائیں۔ مثال کے طور پر، انہیں بتائیں کہ اب سے دس منٹ بعد گیم بند کرنی ہوگی تاکہ ان کا ذہن اس تبدیلی کے لیے تیار ہو سکے۔ اس طرح اچانک غصہ آنے یا ضد کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ خود بچوں کے سامنے ڈیجیٹل آلات کا کم استعمال کریں۔ بچے وہی کچھ سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہیں گے تو بچوں کو اسکرین سے روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے متبادل اور دلچسپ سرگرمیاں تلاش کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اکثر بچے بوریت کی وجہ سے اسکرین کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اگر انہیں آؤٹ ڈور گیمز، کتابیں پڑھنے، پینٹنگ یا دیگر تخلیقی کاموں میں الجھا دیا جائے تو وہ خود بخود ڈیجیٹل ڈیوائسز کو بھول جاتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی ایک اچھی چیز ہے لیکن اس کی زیادتی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ عادات کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ ان پانچ نرم اور پرسکون طریقوں پر عمل کر کے نہ صرف بچوں کا اسکرین ٹائم کم کیا جا سکتا ہے بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان تعلقات کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔