LIVE
Loading Breaking News...

بچوں کے لیے اسکرین فری گیجٹ بنانے والے کو سر پال مک کارٹنی کا ساتھ مل گیا

News Image
برطانوی کمپنی یوٹو کے شریک بانی اور سی ای او بین ڈروری نے اپنے بچوں کو ڈیجیٹل اسکرینز سے دور رکھنے کے لیے ایک منفرد آڈیو پلیئر ایجاد کیا ہے۔ اس اختراعی اور منفرد پروڈکٹ سے متاثر ہو کر لیجنڈری موسیقار سر پال مک کارٹنی نے اس میں تین مرتبہ سرمایہ کاری کی ہے۔
برطانوی کمپنی یوٹو (Yoto) کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بین ڈروری نے اپنے بچوں کو اسکرین کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ایک ایسا منفرد آڈیو پلیئر تیار کیا ہے جو دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔ بین ڈروری کے مطابق ان کی کمپنی کی بنیاد ان کے اپنے بچوں کی ضروریات سے پڑی، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی لت سے محفوظ رہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک ایسا اسکرین فری گیجٹ ڈیزائن کیا جو بچوں کو کہانیوں اور موسیقی سے جوڑتا ہے۔ اس منفرد خیالات اور کامیاب پروڈکٹ نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی، جن میں عالمی شہرت یافتہ برطانوی موسیقار سر پال مک کارٹنی بھی شامل ہیں۔ سر پال مک کارٹنی نے اس ٹیکنالوجی پر اس قدر اعتماد کا اظہار کیا کہ انہوں نے اس کمپنی میں ایک یا دو بار نہیں بلکہ مجموعی طور پر تین مرتبہ سرمایہ کاری کی۔ موسیقار کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کے لیے اسکرین کے متبادل پروڈکٹس کی مارکیٹ میں کتنی بڑی گنجائش اور اہمیت موجود ہے۔ بین ڈروری کا کہنا ہے کہ ابتدائی مراحل میں انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہارڈ ویئر کی تیاری اور فنڈنگ کے مسائل کسی بھی نئے کاروباری شخص کے لیے کٹھن ہوتے ہیں۔ تاہم، والدین کی جانب سے اسکرین فری حل کی شدید ضرورت نے ان کی اس کاوش کو جلد ہی کامیاب بنا دیا۔ آج یوٹو کے ذریعے لاکھوں بچے ڈیجیٹل اسکرینز پر وقت ضائع کیے بغیر تعلیمی اور تفریحی آڈیو مواد سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات بھی اس قسم کی ٹیکنالوجی کو سراہ رہے ہیں کیونکہ حد سے زیادہ اسکرین کا استعمال بچوں کی ذہنی صحت، نیند اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ بین ڈروری کا یہ کارنامہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت سمت میں کیا جائے، تو یہ معاشرے بالخصوص نئی نسل کی بہتری میں اہم ترین کردار ادا کر سکتی ہے۔