LIVE
Loading Breaking News...

کنٹریکٹ فارمنگ کے قرضے: حکومت کی بینکوں کو نئی ہدایات

News Image
حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر بینکوں کو کنٹرैक्ट فارمنگ کے لیے قرضوں کے نظام کو یکساں اور آسان بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد روایتی سکیورٹی کی بجائے خریدار کے معاہدے کی بنیاد پر کسانوں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
نئی دہلی میں مرکزی حکومت کی جانب سے زرعی شعبے اور کسانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے تمام پبلک سیکٹر بینکوں (PSBs) اور انڈین بینکس ایسوسی ایشن (IBA) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اگلے چھ سے بارہ مہینے کے اندر کنٹریکٹ فارمنگ کے تحت دیے جانے والے قرضوں کے نظام کو معیاری اور یکساں بنائیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد زرعی شعبے میں کارپوریٹ اور کسانوں کے مابین ہونے والے معاہدوں کے تحت مالی لین دین کو شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ ملک بھر کے کسان اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔ ذرائع کے مطابق، اس نئی پالیسی کے تحت بینکوں کی جانب سے قرض دینے کے فیصلے اب روایتی ضمانت یا جائیداد کی رہن (collateral) پر منحصر نہیں ہوں گے، بلکہ یہ خریدار کے ساتھ طے پانے والے خریداری کے معاہدے (purchase agreement) کی اعتبار اور پائیداری پر مبنی ہوں گے۔ موجودہ وقت میں مختلف بینک کنٹریکٹ فارمنگ کے تحت دی جانے والی فنانسنگ کو مختلف طریقوں سے دستویز بند کرتے ہیں جس کی وجہ سے کسانوں اور خریداروں کو کئی قسم کی انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس نئی اصلاحات کا مقصد اس پورے عمل کو ملک بھر میں ایک جیسا بنانا ہے تاکہ بنکوں کے لیے بھی رسک اسیسمنٹ آسان ہو جائے اور کسانوں کو بلا تاخیر اور سستے قرضے فراہم کیے جا سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، کسانوں کی آمدنی کو تحفظ ملے گا اور زرعی سپلائی چین مزید مستحکم ہوگی۔ بینکوں اور متعلقہ اداروں کو مقررہ مدت کے اندر اس پر عمل درآمد کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔