LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف عزم، صدر اور وزیراعظم کا مشترکہ مؤقف

News Image
پاکستان نے دہشت گردی کے متاثرین کی یاد کے دن کے موقع پر ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ صدر اور وزیراعظم نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے متاثرین کی یاد کے عالمی دن کے موقع پر ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزارتِ خارجہ (ایم او ایف اے) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی قوم اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور یہ عزم اب بھی اتنا ہی مضبوط ہے جتنا پہلے دن تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاست ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغامات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کی غیر متزلزل وابستگی کو دہرایا اور اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ رہنماؤں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے کیونکہ اس لعنت سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم ہے اور اس کے تدارک کے لیے سرحدوں سے بالاتر ہو کر تعاون کرنا ہوگا۔ دریں اثنا، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی اپنے بیان میں دہشت گردی کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کا یہ متفقہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔