Business
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ، فی تولہ سونا مہنگا
پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فی تولہ سونا بڑھ کر 477,136 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں تیزی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مسلسل دوسرے روز بھی سونے کے نرخ اوپر جانے کی وجہ سے خریداروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 477,136 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں ہونے والے اضافے کا براہ راست اثر مقامی صرافہ بازاروں پر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے قیمتی دھات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث عالمی منڈی میں سونا مہنگا ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیزی کے اس رجحان کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی گہرے اثرات چھوڑ رہے ہیں جہاں صرافہ ایسوسی ایشنز کی جانب سے نئے ریٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ چند روز قبل مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا تھا اور کچھ رپورٹس کے مطابق معمولی کمی بھی ہوئی تھی، تاہم مجموعی طور پر حالیہ دو دنوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام خریداروں اور شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے زیورات خریدنے والوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ زیورات بنانے والے سناروں کا کہنا ہے کہ قیمتیں آسمان کو چھونے کی وجہ سے مارکیٹ میں گاہکوں کا رش کم ہو گیا ہے اور زیادہ تر لوگ خریداری کے بجائے پرانا سونا بیچنے یا اس کے متبادل طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ مستحکم نہیں ہوتے یا اس میں کمی واقع نہیں ہوتی، اس وقت تک مقامی مارکیٹ میں بھی مندی کا کوئی بڑا امکان نظر نہیں آ رہا۔
حالیہ صورتحال میں صرافہ مارکیٹ سے وابستہ کاروباری افراد اور سرمایہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں ایک طرف عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، وہیں مقامی سطح پر بھی روپیہ اور ڈالر کی قدر میں ہونے والی تبدیلیاں سونے کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ شہریوں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی سونے میں لین دین کا فیصلہ کریں تاکہ کسی بھی بڑے مالی نقصان سے بچا جا سکے۔