LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کے اہل خانہ کا حکومت پر اسپتال احکامات نہ ماننے کا الزام

News Image
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج نے حکام پر اسپتال کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ اس دوران حکام کی جانب سے عمران خان کے اصل ٹھکانے کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے اہل خانہ اور ان کے ذاتی معالج نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکام عدالتی اور طبی احکامات کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ سارا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق وزیر اعظم کی صحت اور ان کے موجودہ ٹھکانے کے حوالے سے مختلف اور متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ عمران خان کی ہمشیرہ اور ان کے معالج نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس اور بیانات میں دعویٰ کیا کہ رات گئے تک صورتحال انتہائی غیر یقینی اور افراتفری کا شکار رہی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور جیل انتظامیہ کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی خیریت اور ان کے مقامِ منتقلی کے بارے میں جو بیانات دیے گئے وہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے جس سے خاندان کے اندر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کو عمران خان تک رسائی دینے سے گریز کیا جا رہا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب حکارتی ترجمانوں اور متعلقہ حکام نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اقدامات قانون کے دائرے اور قیدیوں کے مروجہ قوانین کے مطابق اٹھائے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی خدشات اور دیگر انتظامی امور کا حوالہ دیتے ہوئے حکام کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنا مجبوری ہے۔ تاہم، سیاسی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید ردعمل پایا جا رہا ہے اور وکلاء برادری نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے نے ملک کی پہلے سے کشیدہ سیاسی فضا میں مزید تلخی پیدا کر دی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے آنے والے دنوں میں سیاسی اور قانونی محاذ پر دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔