World
سویڈن: فلسطینی نژاد وزیر اور ستارہ داؤد کا تنازع
غزہ میں جاری جنگ کے بعد سے یورپ بھر میں یہود دشمنی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سویڈن میں فلسطینی نژاد وزیر کی جانب سے ستارہ داؤد کے استعمال پر ایک نیا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے پورے یورپ میں یہود دشمنی (anti-Semitism) کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں سویڈن میں ایک اہم سیاسی تنازع اس وقت سر اٹھایا جب ایک فلسطینی نژاد وزیر نے ستارہ داؤد سے متعلق ایک معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ اس واقعے کے بعد سویڈش سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ تنازع خطے میں پہلے سے موجود سیاسی اور ثقافتی کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔
یورپی ممالک میں غزہ کی صورتحال پر عوامی اور سیاسی سطح پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ سویڈن کا یہ تازہ ترین واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کس طرح یورپ کے اندرونی سیاسی منظر نامے کو متاثر کر رہے ہیں۔ متعلقہ وزیر کے بیانات اور عمل پر سول سوسائٹی کے مختلف طبقات کی طرف سے تنقید اور حمایت دونوں طرح کے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ حکارتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس تنازع کو مزید بڑھنے سے کیسے روکا جائے اور معاشرتی ہم آہنگی کو کیسے برقرار رکھا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں اس طرح کے واقعات تارکین وطن کے حقوق، قومی شناخت اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سویڈن کی سیاست میں اس معاملے نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو بین الاقوامی تنازعات پر کس قسم کا موقف اختیار کرنا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید سیاسی اور سفارتی اثرات سامنے آنے کا قوی امکان ہے، جس پر مقامی میڈیا کی بھی پوری نظر ہے۔