LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان پر جیل میں تشدد، ہمشیرہ کا سنگین دعویٰ

News Image
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو دوران حراست جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے حکام سے اس صورتحال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ نے حال ہی میں ایک سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو جیل کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سیاسی حلقوں میں پہلے ہی تناؤ پایا جا رہا ہے اور اس خبر نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے خود انہیں جیل میں ہونے والے اس مبینہ سلوک کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی اس خبر کے بعد شدید غم و غصے میں ہیں اور حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ دوسری جانب، جیل حکام یا سرکاری سطح پر اس مبینہ تشدد کے دعوے پر فوری طور پر کوئی گہرا تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں بھی حکومتی ترجمان اس قسم کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات سے عدالتی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں عدالتی کارروائیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ عمران خان کے وکلاء اور خاندان کے افراد نے عدالت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان تک رسائی کو بہتر بنایا جائے اور ان کے طبی معائنے کے لیے غیر جانبدار ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی جائے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس خبر پر نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ سابق وزیر اعظم کی قید اور ان کے ساتھ ہونے والا مبینہ سلوک ملکی سیاست کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین موضوع بن چکا ہے۔