LIVE
Loading Breaking News...

خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی ملک بدری کی تازہ تفصیلات

News Image
مارچ سے جولائی دو ہزار چھبیس کے دوران مختلف خلیجی ممالک سے اکیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ وزارتِ داخلہ اور نارکوٹکس کنٹرول نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدامات ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر وجوہات پر کیے گئے۔
اسلام آباد: رواں برس مارچ کی یکم تاریخ سے لے کر تیرہ جولائی تک کے مختصر عرصے میں کل اکیس ہزار نو سو اکاون پاکستانی شہریوں کو مختلف خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ان افراد کو ملک بدر کرنے کی وجوہات میں زائد المعیاد قیام، بھکاری پن، غیر قانونی داخلہ، منشیات کے مقدمات، جعلی دستاویزات، اور سیکیورٹی خدشات سمیت متعدد امور شامل ہیں۔ یہ انکشاف وزارتِ نارکوٹکس کنٹرول اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی حامد حسین کے سوالات کے تحریری جواب میں کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، ڈی پورٹ ہونے والوں میں چار ہزار چھ سو اٹھائیس مفرور افراد بھی شامل تھے جبکہ ایک ہزار دو سو چورانوے جیل کاٹنے والے، نو سو اڑسٹھ بلیک لسٹڈ، اور ایک ہزار ایک سو پچپن پاسپورٹ گمشدگی کے کیسز سے متعلق تھے۔ اس کے علاوہ چھ سو نواسی پاکستانیوں کو ویزا کی خلاف ورزیوں جبکہ تین سو بیالیس افراد کو خلیجی ریاستوں میں داخلے سے انکار کے بعد واپس بھیجا گیا۔ ملک وار اعداد و شمار کے مطابق، سب سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو سعودی عرب سے نکالا گیا جن کی تعداد تقریبا پندرہ ہزار پانچ سو بنتی ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات نے تین ہزار آٹھ سو تین، عمان نے ایک ہزار چھ سو چھ، بحرین نے پانچ سو اکیس، قطر نے چار سو انتیس اور کویت نے ستانوے پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا۔ اس کے علاوہ چھ ہزار چھ سو باسٹھ پاکستانیوں کو دیگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر خلیجی ریاستوں سے واپس بھیجا گیا جن کی تفصیلی نوعیت وزارت نے واضح نہیں کی۔ خلیجی ممالک سے ملک بدر کیے جانے والوں میں چار سو بہتر پاکستانی بھکاری بھی شامل ہیں جنہیں قانون شکنی پر واپس بھیجا گیا۔ امارات سے انٹرپول کے ذریعے نو پاکستانیوں کو بھی واپس لایا گیا جبکہ دیگر کو جعلی اقاموں، چوری اور امیگریشن قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر نکالا گیا۔