World
جنرل موٹرز کی گاڑیوں کی تحقیقات، امریکہ کا بڑا قدم
امریکہ کے آٹوموبائل سیفٹی ریگولیٹر نے جنرل موٹرز کی تقریباً دس لاکھ گاڑیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ تحقیقات گاڑیوں کے ممکنہ تکنیکی مسائل اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر کی جا رہی ہیں۔
امریکہ کے وفاقی ریگولیٹری اداروں نے جنرل موٹرز (جی ایم) کی تقریبا دس لاکھ پک اپس اور اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ قدم گاڑیوں میں سامنے آنے والے مبینہ تکنیکی نقائص اور صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے کی ہر پہلو سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس تحقیقات کے دائرہ کار میں جی ایم کی وہ گاڑیاں شامل ہیں جو گزشتہ چند سالوں کے دوران بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتاری گئی تھیں۔ آٹوموبائل ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کوئی سنگین حفاظتی مسئلہ پایا گیا تو کمپنی کو بڑی تعداد میں گاڑیاں واپس بلا کر ان کی اصلاح کرنا پڑ سکتی ہے، جسے آٹوموبائل انڈسٹری کی زبان میں ریکال کہا جاتا ہے۔ جنرل موٹرز کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ادارہ تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے اور اپنے صارفین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی کا مقصد ہر ممکن طریقے سے گاڑیوں کے معیار اور حفاظت کو برقرار رکھنا ہے تاکہ سڑکوں پر سفر کرنے والے افراد کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد جنرل موٹرز کے شیئرز پر بھی ہلکا دباؤ دیکھا گیا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں بھی اس تحقیقات کے حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔