Business
بھارت میں جین ایڈیٹڈ چاول کی اقسام اور پیداوار میں کمی
بھارت میں چاول کی پیداواری شرح میں کمی کے پیش نظر زرعی حکام نے نئی جین ایڈیٹڈ اقسام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان نئی اقسام سے ملک میں خوراک کی سکیورٹی اور پیداوار میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
بھارت میں چاول کی زرعی پیداواری ترقی سست روی کا شکار ہو گئی ہے، ایسے وقت میں جب ملک کے کسانوں کے لیے جینوم ایڈیٹڈ (Gene-edited) اقسام متعارف کرانے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں تیار کی گئی دو اہم اقسام جن میں ڈی آر آر دھان 100 یعنی کمالا اورپوسہ رائس ڈی ایس ٹی 1 شامل ہیں، کسانوں کو فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ فصل کی پیداوار میں ہونے والی کمی کو روکا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی طریقوں سے اب پیداوار میں وہ تیزی نہیں آ رہی جو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار ہے۔
زرعی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روایتی کاشتکاری کو موسمیاتی تبدیلیوں اور زمین کے کٹاؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دھان کے کھیتوں کی فی ایکڑ پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ جین ایڈیٹڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ یہ نئی اقسام نہ صرف کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت رکھتی ہیں بلکہ پانی کی کم مقدار میں بھی بہتر پیداوار دینے کی صلاحیت کی حامل ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس جدید قدم سے ملک میں زرعی معیشت کو ایک نیا سہارا ملے گا اور کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ روایتی جی ایم او (GMO) فصلوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور قانون سازی کے لحاظ سے آسان ہے کیونکہ اس میں کسی دوسری نسل کا مادہ شامل نہیں کیا جاتا بلکہ پودے کے اپنے ہی جینز میں بہتری لائی جاتی ہے۔ تاہم، ملک کے مختلف کسان اتحاد اور ماہرین اس حوالے سے احتیاط برتنے پر بھی زور دے رہے ہیں تاکہ اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت اور زرعی ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسانوں کو ان نئی اقسام کے استعمال کے بارے میں مکمل تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے۔
آنے والے سیزن میں ان جین ایڈیٹڈ اقسام کی کامیابی بھارت کی مستقبل کی زرعی پالیسی کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو دیگر فصلوں کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی کے دروازے کھل سکتے ہیں، جو خطے میں خوراک کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ تمام تر چیلنجز کے باوجود، بھارت کا زرعی شعبہ اس نئی تکنیک کو اپنانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔