LIVE
Loading Breaking News...

سیبی نے FPIs کے لیے ڈیجیٹل پاور آف اٹارنی منظور کر لیا

News Image
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (FPIs) کے لیے ڈیجیٹل دستخط شدہ پاور آف اٹارنی جمع کرانے کی اجازت دیدی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے کاغذی کارروائی کو کم کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانا ہے۔
نئی دہلی: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (FPIs) کے لیے آسانی پیدا کرتے ہوئے ڈیجیٹل دستخط شدہ پاور آف اٹارنی (POA) دستاویزات جمع کرانے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ اس حوالے سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ عمل انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے اصول و ضوابط کے عین مطابق ہوگا۔ اس نئے اور اہم اقدام کا بنیادی مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے عمل کو تیز تر اور شفاف بنانا ہے۔ اس اصلاحات کے نفاذ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو طویل اور پیچیدہ کاغذی کارروائی سے نجات ملے گی۔ ماضی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاور آف اٹارنی کے اجرا اور توثیق کے لیے متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، جس میں کافی وقت صرف ہوتا تھا۔ اب نئے قوانین کے تحت دستاویزات کی نوٹرائزیشن اور اپوسٹیلیشن کی لازمی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سہولت سے نہ صرف فنانشل مارکیٹ میں کام کرنے والے اداروں کے انتظامی اخراجات میں کمی واقع ہوگی بلکہ ہندوستان کیپیٹل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین معاشیات اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے سیبی کے اس فیصلے کو انتہائی خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قدم سے عالمی سرمایہ کاروں کا ہندوستانی مارکیٹ پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا اور وہ بغیر کسی اضافی وقت کے ضیاع کے آسانی سے مارکیٹ کا حصہ بن سکیں گے۔ سیبی کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کو ڈیجیٹل انڈیا کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد تمام مالیاتی امور میں ٹیکنالوجی کے بروئے کار لاتے ہوئے شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔